آخری لمحات

٭ مدیر اعلیٰ السعید صاحب زادہ قبلہ علامہ سید حامد سعید کاظمی نے امام اہلسنت نمبر مارچ ۱۹۹۵ء میں صفحہ ۱۳۲ میں آخری لمحات کا منظر یوں پیش کیا ہے کہ ۲۵ رمضان المبارک کو بدھ کے دن افطاری کے وقت آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس محمدظفر بن حاجی محمد یعقوب صاحب اور بھائی جان قبلہ موجود تھے۔ افطاری کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا مظہر میاں! میرا وضو تو ہے لیکن ذرا تازہ وضو کرلیں پھر نماز مغرب ادا کریں گے

٭ بھائی جان قبلہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو سہارا دیکر اٹھنے میں مدد دینا چاہی اسی اثنا میں آپ پیچھے کی طرف گر گئے اور بھائی جان قبلہ نے گھبرا کر سنبھالنا چاہا تو پتہ چلا کہ آپ اس دار فانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کرچکے ہیں۔بھائی جان قبلہ نے گھبرا کر ڈاکٹر راشد سعید کاظمی اور ہم باقی بھائیوں کو بلایا اور صرف اتنا کہا کہ ابا جی قبلہ گر گئے ہیں۔ ہم سب بھاگتے ہوئے وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ آپ سفر آخرت فرما چکے ہیں ۔نشتر سے ڈاکٹر چیمہ صاحب کی تصدیق کے بعد قیامت صغریٰ کا منظر تھا دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر پورے ملک میں پھیل گئی ۔ ہزاروں لوگوں نے اعتکاف چھوڑے چھوٹی موٹروں سے لیکر ہوائی جہازوں تک سواریوں کیلئے جگہ نہ تھی۔ کراچی سے سوائے ہوائی جہاز کے جلدی آنا ممکن نہیں تھا اسلئے کراچی سے صرف وہ لوگ شریک ہوسکے جنہیں صبح کی پرواز سے سیٹیں ملیں۔ ان میں مولانا شاہ احمد نورانی بھی تھے۔ اسطرح بہت لوگ گردو نواح اور دور دراز علاقوں سے بے شمار عقیدت مند و مریدین جنازہ کی سعادت سے رہ گئے۔ ادھر ملتان میں تمام کاروباری ادارے تمام پرائیویٹ اور گورنمنٹ کے دفاتر بند ہوگئے۔ سارے شہر میں سوگ اور ویرانی کا سماں تھا۔ البتہ وہ راستے جو سپورٹس گرائونڈ کی طرف آتے تھے ان پر لوگوں کا اسقدر اژدھام تھا کہ گویا ساری آبادی اسطرف پلٹ آئی ہے۔ سپورٹس گرائونڈ ملتان اسقدر وسیع و عریض ہے کہ بڑے بڑے سیاسی جلسوں اور بڑی بڑی روحانی مذہبی سیاسی شخصیات کے جنازوں کے موقع پر کبھی پورا نہ بھرا تھا۔ لیکن جنازے کے موقع پر ہی گرائونڈ اس قدر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا کہ جب جنازہ آیا تو جنازہ رکھنے کی جگہ نہ تھی۔ جنازہ گھر سے چلا تھا تو جنازہ کے ہمراہ اس قدر لوگ تھے کہ جن کا ہم تصور نہ کرسکتے تھے۔ اور سارا راستہ لوگوں سے اتنا بھرا ہوا تھا کہ ہمارے لئے سانس لینا دشوار معلوم ہوتا تھا اور ہم سمجھتے تھے کہ جنازے میں شامل ہونے والے تمام لوگ ہمارے ساتھ چل رہے ہیں یہ تو وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ گرائونڈ تو سارا پہلے سے اسی طرح بھرا ہوا ہے کہ اس میں اب مزید لوگوں کی بلکہ جنازہ رکھنے کی گنجائش نہیں ہے لائوڈ اسپیکر پر منتیں کی گئیں کہ خدارا لوگ پیچھے چلے جائیں اور جنازہ کیلئے جگہ دیں لیکن لوگوں نے آکر بتایا کہ جناب! سارا گرائونڈ گرائونڈ کے باہر سڑک سڑک کے پار مسلم ہائی سکول کا گرائونڈ بلکہ اس گرائونڈسے متصل سول لائنز کالج کا گرائونڈ سب اسی طرح بھرے ہوئے ہیں کہ صفیں بنانے کی گنجائش نہیں ہے لوگ صفیں بنائے بغیر قبلہ رخ کھڑے ہیں اور اس وقت تو اسی طرح نماز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے۔کہ صفیں بنانے کیلئے چار گنا زیادہ جگہ کی ضرورت ہے جو لوگ سواریوں پر آئے تھے دور دور تک ان کیلئے سواری کھڑا کرنے کی جگہ نہ تھی۔ ملتان کے معمر اور بزرگ صحافیوں نے کہا کہ اتنا بڑا عظیم الشان جنازہ آج تک پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی یا مذہبی شخصیت کا نہیں ہوا۔ اور اس کا صحیح طورپر فوٹو تو ہیلی کاپٹر سے اتارا جاسکتا ہے وہ اس لیئے کہ ہم کتنی بلند عمارت پر بھی کھڑے ہوجائیں سارا سپورٹس گرائونڈ کی صحیح طرح کور نہیں کرسکتے تو وہ لوگ جو سڑک پر اور پھر مسلم سکول اور سول لائنز کالج کے گرائونڈ میں کھڑے ہیں ان کی عکاسی کیسے ممکن ہوگی بہت سے لوگ جو پہلے اباجی قبلہ کے مقام اور شان سے واقف نہ تھے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں تو حضرت کا جنازہ دیکھ کر پتہ چلا کہ وہ کس پائے کی شخصیت تھے کاش! ہمیں حضرت کی زندگی میں اس حقیقت کا عرفان ہوجاتا جنازے میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے حضرات شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت کاظمی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اتنی برگزیدہ اور پسندیدہ شخصیت تھے کہ ان سے علمی یا عقیدے کا اختلاف رکھنے کے باوجود انکی عظمت اور بزرگی کا انکار ممکن نہیں۔ حاجی محبوب صاحب الفلاح فرنیچر والے نے انتہائی نفیس اور عمدہ تابوت بنایا اس تابوت کے ساتھ بانس باندھ دیئے گئے تھے کہ کندھا دینے کے خواہش مند حضرات کو آسانی رہے۔ پاکستان کے تمام قابل ذکر خانقاہوں کے سجادگان کے علاوہ قائد اہلسنت قبلہ مولانا شاہ احمد نورانی اور حضرت قبلہ دیوان سید آل مجتبیٰ سجادہ نشین اجمیر شریف موجود تھے۔ بھائی جان قبلہ نے جو اس وقت سجادہ نشین ہیں میری درخواست پر نماز جنازہ پڑھائی۔المختصر حافظ عبدالواحد کے اصرار پر عید گاہ تدفین کی جگہ طے ہونے کے بعد جناب غلام قاسم خاکوانی میئر ملتان سے اجازت لی گئی۔ رات کے نو بجے تک تدفین سے فراغت ہوئی یہ رمضان کی ستائیسویں شب تھی اور صبح جمعۃ الوداع تھا۔ گویا قبر میں آنے والی پہلی رات شب قدر تھی اور پہلا دن جمۃ الوداع تھا۔ ایک صاحب دل نے کہاآج بچے روتے ہیں کہ شفیق باپ کے سائے سے محروم ہوگئے مرید روتے ہیں کہ کامل مرشد دنیا سے رخصت ہوئے۔ شاگر د روتے ہیں کہ مہربان استاد دار فانی سے کوچ کرگئے لیکن میں اس لئے روتا ہوں کہ آج علم یتیم ہوگیا۔

٭ ملتان میں قیام کے تقریباً ۵۱ سال مکمل فرما کر ۷۳ سال کی عمر میں ۲۵ رمضان المبارک بروز بدھ ۱۴۰۶ھ بمطابق ۴ جون ۱۹۸۶ء کو شب قدر میں اپنی قبر انور کو منور کیا۔

(انا للہ وانا علیہ راجعون)

 

ہوم پیج