آخری ملاقات

٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی اہلیہ محترمہ فرماتی ہیں کہ جس دن آپ رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال ہوا اس دن تقریباً ڈھائی بجے کے قریب کتب خانے سے یہ اندر اپنے کمرے میں آئے۔ طبیعت بہت ناساز تھی۔ سانس سینے میں نہ سماتی تھی۔ اسی کیفیت میں آکر بیٹھے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ جیب میں کل دس روپے تھے وہ نکال کر مجھے دیئے اور کہنے لگے کہ اس وقت تو یہی دس روپے ہیں لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ خرچ وغیرہ کے بارے میں بالکل تردد نہ کیجئے گا۔ یہ کہہ کر تھوڑی دیر سانس سنبھلنے کا انتظار کیا اور پھر واپس کتب خانہ میں چلے گئے۔ پھر عصر کے وقت قریباً پانچ بجے کے لگ بھگ دوبارہ کمرے میں اندر آئے اور وہاں مصلیٰ بچھا کر اس پر عصر کی نماز ادا کی۔ اسی اثناء میں میں بھی وضو کرکے آئی اور چاہتی تھی کہ دوسرا مصلیٰ بچھا کر نماز پڑھ لوں۔ اتنے میں آپ رحمتہ اللہ علیہ سلام پھیر چکے تھے۔ مجھے اشارے سے منع کیا اور خود اپنا مصلیٰ چھوڑ کر میرے لئے جگہ بنا دی اور اشارے سے کہا کہ میں وہیں نماز پڑھ لوں میرے نماز پڑھنے کے دوران دوسری طرف منہ پھیرے بیٹھے رہے جب میں نماز سے فارغ ہوئی تو رخ میر ی طرف کیا اور تھوڑی دیر مجھے غور سے دیکھتے رہے چونکہ یہ ان کی عادت نہ تھی اس لئے مجھے بہت عجیب لگا بلکہ گھبراہٹ محسوس ہوئی مجھے بے چین دیکھ کر خدا حافظ کہا اس وقت بڑی بیٹی قمر جہاں بھی ہمارے ساتھ تھی اسے بھی فی امان اللہ کہا اور بٹیا کو اپنے گھر جانے کو کہا پھر دیوار کا سہارا لیکر آہستہ آہستہ اپنے کتب خانہ کی طرف چلے۔ پھر جاتے جاتے پلٹ کر دروازے سے ایک بار پھر اللہ حافظ کہا یہ انکی زندگی میں میر ی آخری ملاقات تھی۔

ہوم پیج