ملتان شریف میں آمد اور سلسلہ تدریس


٭ حضرت سید نفیر عالم ایک درویش صفت بزرگ تھے۔ آپ کے برادر معظم نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ وقتاً فوقتاً ان کی خدمت میں حاضر ہوا کریں۔ چنانچہ آپ نے حضرت نفیر عالم کو اپنا شیخ صحبت بنا لیا تھا۔ حضرت سید نفیر عالم ہر سال ملتان میں خواجہ غریب نواز سلطان الہند معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کا عرس منعقد کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں آپ کو وہاں تقریر کی دعوت دی۔ حضرت نفیر عالم نے جب آپ کی تقریر سنی تو دل و جان سے فدا ہوگئے اور تب سے ان کا پیہم اصرار رہا کہ آپ ملتان آجائیں اور اہالیان ملتان کو مستفیض کریں۔ بالآخر 1935ء کے اوائل میں آپ ملتان تشریف لے آئے۔
 

٭ ملتان آنے کے بعد آپ نے اپنے رہائشی مکان ہی میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کردیا متلاشیان حق اور تشنگان علم دور دور سے آکر آپ کے چشمہ فیض سے سیراب ہوتے رہے نومبر1935ء میں آپ نے مسجد حافظ فتح شیر بیرون لوہاری دروازہ میں قرآن مجید کا درس شروع کیا۔ بعض لوگوں نے اس درس کو ناکام کرنا چاہا۔ چنانچہ علاقہ کے تمام مخالف علماء درس میں شرکت کرتے اور دوران درس مختلف قسم کے اعتراض کیا کرتے۔ مگر خدا کے فضل سے وہ ہمیشہ ناکام رہے اور آپ کے علم و فضل کی شہرت دور دور پھیلتی گئی۔ حضرت اٹھارہ سال تک مسلسل اس مسجد میں درس قرآن حکیم دیتے رہے اور اٹھارہ سال کے طویل عرصہ کے بعد حضرت چپ شاہ کی مسجد میں درس حدیث دینا شروع کیا اور پہلے مشکوٰۃ شریف کا اور اس کے بعد بخاری شریف کا درس مکمل کیا۔
 

٭ آپ کے حلقہ درس میں یوں تو سب ہی آپ کے ارادتمند تھے لیکن حاجی محمد ابراہیم کمپنی والے آپ سے خصوصی عقیدت رکھتے تھے۔ یہ گوجرانوالہ کے ایک دیوبندی مولوی عبدالعزیز کے مرید تھے۔ جب حاجی محمدابراہیم نے حج پر جانے کا ارادہ کیا تو مولوی عبدالعزیز گوجرانوالہ سے انہیں رخصت کرنے کیلئے ملتان آئے۔ جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کا یہ مرید حضرت کا درس سنتا ہے تو وہ بہت برہم ہوئے اور کہنے لگے یہ لوگ تو(العیاذ باللہ) مشرک ہیں۔ دوسرے دن جب حاجی محمد ابراہیم کو گاڑی میں سوار کرنے کیلئے اسکے احباب گئے ان میں حضرت بھی تھے اور مولوی عبدالعزیز بھی۔ پھر وہاں پر کسی نے باہم تعارف کرادیا۔

٭ مولوی عبدالعزیز نے اسکے بعد اپنے تمام ہم خیال علماء کو اکٹھا کیا اور کہا کہ یہاں ایک بدعتی آگیا ہے اگر اس کے قدم یہاں جم گئے تو بڑی پریشانی ہوگی۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم نے بارہا کوشش کی ہے لیکن ان کے علم اور زور بیان کے آگئے پیش نہیں جاتی۔ آپ کو فن مناظرہ میں بڑی مہارت ہے اور علم و فضل میں بھی بلند مقام رکھتے ہیں اس لئے آپ ان سے مناظرہ کریں چنانچہ مولوی عبدالعزیز اور اس کے حواریوں نے مناظرہ کی تیاری شروع کردی اور کئی دن صرف کرکے بے شمار کتابوں پر نشان لگائے گئے۔ حضرت کا معمول تھا کہ ہر روز صبح درس کے بعد حضرت غوث بہاء الحق رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضری دے کر آتے تھے۔ ایک دن وہاں سے واپس آرہے تھے تو پیغام ملا کہ مولوی عبدالعزیز نے گفتگو کیلئے حاجی محمد ابراہیم کی کمپنی میں بلایا ہے۔ حضرت اسی وقت اور اسی حال میں کمپنی میں تشریف لے گئے۔ اس گفتگو میں مولوی عبدالعزیز بری طرح ناکام ہوئے اور ان کی رسوائی کی خبر تمام شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور شہر کے تمام لوگ ہر طرف سے آکر آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہونے لگے۔
 

ہوم پیج