جمیعت العلماء پاکستان کی بنیاد

٭ قیام پاکستان کے بعد حضرت نے نئے حالات کا مطالعہ کیا اور دیکھا کہ وہ لوگ جو کل تک پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے پاکستان بننے کے بعد انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی اور دیکھتے دیکھتے وہ حکومت کی نظر میں سرمٔہ چشم بن کر سما گئے۔ اس وقت آپ نے اہلسنت کے اتحاد اور تنظیم کی ضرورت محسوس کی تاکہ اہلسنت کو سیاسی استحکام اور قوت حاصل ہو۔ اس مقصد کیلئے آپ نے مولانا ابو الحسنات سے مراسلت کی اور ان پر تشکیل جمیعت کیلئے زور ڈالتے رہے نیز آپ نے پاکستان کے تمام علماء کے نام خطوط لکھے کہ آنکہ مارچ1948ء میں تمام علماء ملتان میں جمع ہوئے جن میں حضرت مولانا ناصر جلالی(کراچی) علامہ عبدالغفور ہزاروی(وزیر آباد) مولانا ابو النور محمد بشیر(سیالکوٹ) مولانا ابو الحسنات(لاہور) اور مولانا غلام جہانیاں (ڈیرہ غازی خان) کے اسماء خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

٭ ملتان کے اجلاس میں اہل سنت کی تنظیم کا نام جمیعت العلماء پاکستان تجویز کیاگیا اور حضرت علامہ ابو الحسنات کو جمیعت کا صدر اور حضرت کاظمی شاہ صاحب کوجمیعت کا ناظم اعلیٰ منتخب کیاگیا۔ حضرت علامہ نے اپنی نظامت کے دوران جمیعت کو بے حد فروغ دیا اور جمیعت کے ذریعے ملک و ملت کی بیش از بیش خدمات انجام دیں۔ جہاد کشمیر دستور سازی تحریک تحفظ ختم نبوت تبلیغ و اشاعت سیلاب زدگان کی مددغرض ہر خدمت اور ضرورت کے موقع پر آپ نے جمیعت کے پرچم کو سربلند رکھا۔
 

ہوم پیج