تحریک ختم نبوت

٭ زندگی بھر تحریک ختم نبوت میں بھر پور حصہ لیا۔ پاکستان بن جانے کے بعد مسلم لیگ مفاد پرستوں کا ٹولہ بن گئی اور حضرت قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ اپنی تمام تر نیک نیتی کے باوجود مذہبی اعتبار سے سر ظفر اللہ خان کو سمجھ نہ پائے اور انہیں پاکستان کے وزارت خارجہ جیسے اہم منصب پر فائز کردیا چنانچہ انہوں نے اپنی ملعون قادیانی جماعت کو پاکستان کے سرکاری وسائل سے مختلف شعبوں پر مسلط کردیا۔ اس پر پورے ملک میں اضطراب پھیل گیا جس سے تحریک ختم نبوت نے جنم لیا اور یہ تحریک ۱۴ جولائی بروز سوموار ۱۹۵۲ء سے مئی ۱۹۵۳ء تک پھیل گئی ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ جمیعت کے ناظم اعلیٰ اور مسلم لیگ کے صوبائی کونسل کے رکن کی حیثیت سے قاضی مرید احمد صاحبزادہ سید محمود شاہ گجراتی خواجہ عبدالحکیم صدیقی محمد اسلام الدین کو ساتھ لیکر ۱۷ جولائی بروز جمعرات ۱۹۵۲ء کو قرار داد لکھی۔ جسمیں دوسرے مطالبات کے علاوہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ شامل تھا چنانچہ مسلم لیگ صوبائی کونسل کے اجلاس مورخہ ۲۷ جولائی بروز سوموار ۱۹۵۲ء کو یہ قرارداد آٹھ کے مقابلے میں دو سو چوراسی (۲۸۴) ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہوگئی۔(جسٹس منیر رپورٹ اردوص ۹۶۔۲۸۲) اس طرح قادیانیوں کے خلاف تحریک کے اصل بانی سید ی و مرشدی و مربی روحی و جسمی علامہ غزالی زماںرحمتہ اللہ علیہ ہی قرار پائے ہیں۔

(السعید شمارہ مارچ ۱۹۹۵ء)

ہوم پیج