تدریسی زندگی

٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب فراغت کے بعد بعض احباب سے ملاقات کے لئے لاہور تشریف لائے۔ یہاں حضرت مولانا سید دیدار علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت سے مستفیض ہوئے اور حضرت مولانا سید ابو البرکات اور مولانا سید ابو الحسنات سے ملاقات ہوئی۔ اسی اثنا میں ایک دن جامعہ نعمانیہ تشریف لے گئے۔ وہاں ایک کلاس میں حافظ محمد جمال صاحب کتاب مسلم الثبوت پڑھا رہے تھے۔ آپ سماع کی خاطر ایک طرف بیٹھ گئے۔ اس وقت ماہیت مجردہ پر گفتگو ہو رہی تھی۔ آپ نے بھی بحث میں حصہ لیا۔ آپ کی جودت طبع اور استحضار مسائل کے ملکہ سے حافظ محمد جمال صاحب بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے دبیر انجمن خلیفہ تاج الدین صاحب سے آپ کی قابلیت کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے آپ کو جامعہ نعمانیہ میں تدریس کی پیش کش کی، جس کو آپ نے اپنے برادرِ معظم کی اجازت کی شرط پر منظور کر لیا۔

٭ جامعہ نعمانیہ میں تدریس کے دوران آپ کے ذمہ درسِ نظامی کی مشہور کتابوں (نور الانوار، قطبی، شرح جامی وغیرہ) کی تدریس مقرر کی گئی، جس سے طلبہ کا میلان آپ کیطرف بڑھنے لگا۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں اٹھائیس اسباق کی تدریس آپ کیساتھ متعلق ہو گئی۔

٭ ۱۹۳۱ء میں آپ لاہور سے واپس امروہہ تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ تک امروہہ کے مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں حضرت محدث محمد خلیل کاظمی کی سرپرستی میں تدریس فرماتے رہے۔ اس دوران مطلع العلوم کے حضرت مولانا خلیل اللہ سے مجلس ہوتی اور متعدد علمی مباحثے ہوتے۔ مشہور مناظر مولوی مرتضیٰ حسین دربھنگی سے بھی کئی بار مناظرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ ہمیشہ کامیاب و کامران رہے۔
٭ لاہور کے زمانہ قیام میں حکیم جان عالم صاحب سے آپ کے دوستانہ تعلقات قائم ہو گئے تھے جو لاہور سے واپسی کے بعد بھی برِقرار رہے اور ان سے خط و کتابت ہوتی رہی۔ انہیں کے اصرار پر آپ تقریباً اڑھائی سال کے لئے اوکاڑہ (ضلع ساہیوال) تشریف لے گئے۔ آپ نے یہاں مسلسل تبلیغ دین فرما کر بد عقیدگی اور تنقیصِ رسالت کی وجہ سے مکدر ہونے والی فضا کو صاف کیا۔

٭ حضرت سید نفیر عالم ایک درویش صفت بزرگ تھے۔ آپ کے برادرِ معظم نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ وقتاً فوقتاً ان کی خدمت میں حاضر ہوا کریں۔ چنانچہ آپ نے حضرت سید نفیر عالم کو اپنا شیخ صحبت بنا لیا۔

٭ حضرت قبلہ سید نفیر عالم ہر سال ملتان میں خواجہ غریب نواز سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا عرس منعقد کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں آپ کو وہاں تقریر کی دعوت دی۔ حضرت نفیر عالم نے جب آپ کی تقریر سنی تو دل وجان سے فدا ہو گئے اور تب سے ان کا پیہم اصرار رہا کہ آپ ملتان آ جائیں اور اہلیانِ ملتان کو مستفیض کریں۔ بالآخر ۱۹۳۵ء کے اوائل میں آپ ملتان تشریف لے آئے۔

٭ ملتان آنے کے بعد آپ نے اپنے رہائشی مکان میں ہی درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ متلاشیانِ حق اور تشنگانِ علم دور دور سے آ کر آپ کے چشمہ فیض سے سیراب ہوتے رہے۔ نومبر ۱۹۳۵ء میں آپ نے مسجد حافظ فتح شیر بیرون لوہاری دروازہ میں قرآن مجید کا درس شروع کیا۔ بعض بد بختوں نے اس درس کو ناکام کرنا چاہا چنانچہ علاقہ کے تمام مخالف علماء درس میں شرکت کرتے اور دورانِ درس مختلف قسم کے اعتراض کیا کرتے تھے۔ مگر خدا کے فضل سے وہ ہمیشہ ناکام رہے۔ حضرت نے اٹھارہ سال کے طویل عرصہ کے بعد یہاں درسِ قرآن مکمل کیا۔ اسی اثنا میں آپ نے عشاء کے بعد حضرت چپ شاہ صاحب کی مسجد میں درسِ حدیث شروع کیا اور پہلے مشکوٰۃ اور اس کے بعد بخاری شریف کا درس مکمل کیا۔

 

ہوم پیج